بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے جس کا مقصد ملک کی غریب اور مستحق خواتین کو مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ سال 2026 میں حکومتِ پاکستان نے BISP 8171 پروگرام کے تحت ایک اہم اور سہولت بخش اپڈیٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق اہل خواتین انگوٹھے کی تصدیق (بایومیٹرک ویری فکیشن) یا نئے متبادل دستی تصدیقی نظام کے ذریعے 25,000 روپے کی مالی امداد حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ اقدام خاص طور پر ان خواتین کے لیے متعارف کروایا گیا ہے جو عمر، محنت مزدوری یا طبی وجوہات کی بنا پر بایومیٹرک تصدیق میں ناکامی کا سامنا کر رہی تھیں۔
BISP 8171 سسٹم کے ذریعے مستحق افراد اپنی اہلیت، سی این آئی سی کی تصدیق، اور ادائیگی کی صورتحال معلوم کر سکتے ہیں۔ اس نظام کا بنیادی مقصد شفافیت کو یقینی بنانا، جعلی ادائیگیوں کو روکنا، اور امدادی رقم براہِ راست اصل مستحق خاتون تک پہنچانا ہے۔ اسی وجہ سے انگوٹھے کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم 2026 میں دستی تصدیق کی سہولت متعارف کروا کر اس عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا ہے۔
اس رہنمائی میں نادرا کے ریکارڈ کی درستگی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کیونکہ غلط یا پرانا ڈیٹا ادائیگی میں تاخیر یا مسترد ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔ مستحق خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنا سی این آئی سی درست کروائیں، خاندانی رجسٹریشن ریکارڈ اپڈیٹ رکھیں، اور اگر ضرورت ہو تو نادرا میں اپنی بایومیٹرک معلومات دوبارہ تصدیق کروائیں۔ اس کے بعد این ایس ای آر (NSER) سروے کی تکمیل نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی سروے خاندان کی مالی حیثیت اور اہلیت کا فیصلہ کرتا ہے۔
این ایس ای آر سروے کے لیے اصل سی این آئی سی، بچوں کا ب فارم، یوٹیلیٹی بل (اگر دستیاب ہو)، اور بیوہ خواتین کے لیے شوہر کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی خاتون کا سروے پرانا یا نامکمل ہے تو دوبارہ سروے کروانا لازمی ہوگا۔ سروے مکمل ہونے کے بعد قریبی BISP تحصیل دفتر جا کر انگوٹھے کی تصدیق یا دستی تصدیق مکمل کی جاتی ہے، جس کے بعد ادائیگی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
وہ خواتین جن کی بار بار بایومیٹرک تصدیق ناکام ہو جاتی ہے، ان کے لیے BISP نے دستی تصدیق کا طریقہ متعارف کروایا ہے، جس میں شناخت سی این آئی سی اور خاندانی ریکارڈ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہ سہولت صرف سرکاری BISP دفاتر میں دستیاب ہے اور آن لائن دستیاب نہیں ہے، اس لیے کسی بھی فراڈ یا جعلی دعوے سے بچنا ض